16 اکتوبر بھوک کا عالمی دن
16 اکتوبر عالمی یوم خوراک ڈے کے طور پہ منایا جاتا ہے ۔یہ دن بنیادی طور پر احساس جگانے کا دن ہے۔یہ ہمیں بتاتا ہے کہ بھوک بڑی جان لیوا چیز ہے۔اور وہ لوگ جو بھوک سے نبرد آزما ہیں ان کی مدد کرنا ان کے لیے آواز اٹھانا بنیادی انسانی حقوق میں سے ہے۔اسلام اس کا سب بڑا داعی ہے۔ اسلام میں بہت سے گناہوں کا کفارہ بھوکے کو کھانا کھلانا ہے۔قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے۔وہ لوگ قیامت کے دن کے منکر ہیں جو ہمسایے کو عاریتا چیزیں نہیں دیتے اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے اور نہ ہی دوسروں کو اسکی ےرغیب دلاتے ہیں۔یعنی اگر آپ خود نہیں کھلا سکتے تو کسی صاحب حثیت کی توجہ اس طرف مبذول کروا سکتے ہیں۔
بھوک بڑی ظالم ہے۔کیا خوب کہا کسی شاعر نے
توں کیہ جانے یار امیراں
روٹی بنداں کھا جاندی اے
اس وقت دنیا میں انسان دشمن عناصر روزانہ ٹنوں من کھانا ضائع کرتے ہیں ۔تاکہ مصنوعی طور پہ بھوک کو عام کیا جا سکے۔بھوکا بندہ جلدی گناہ اور غلامی پہ آمادہ ہو جاتا ہے۔جبھی اسان دشمن عناصر اپنے مذموم مقاصد کے لیے ان کو بھوکا رکھنا چاہتیں تاکہ یہ لوگ آسانی سے ان کا مہرہ بن سکے۔اس وقت دنیا میں 65 فیصد لوگ موجود ہیں جو شدید غربت کی زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں۔جبکہ پاکستان میں کووڈ 19 کی وجہ سے غربت کی شرح چالیس فیصد تک جا پہنچی ہے۔چائنہ کی آدھی آبادی غربت کی زندگی گزارنے پہ مجبور ہے۔اس سے ظاہر ہوا کہ بھوک صرف ترقی پزیر ممالک کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ یہ عالمی مسئلہ ہے۔
کیا دنیا میں وسائل کی کمی ہے؟
کہا جاتا ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا تو دو ہاتھ اور ایک منہ لے کر آتا ہے اس حساب سے دیکھیں تو قدرت نے ہر چیز وافر مقدار میں رکھ دی ہے۔وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور مخصوص گروہ کا ان وسائل پہ قابض ہونے سے غربت دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہے جو بھوک کو جنم دیتی ہے۔پاکستان زرعی ملک ہے غذائی اجناس ہر قسم کی یہاں وافر پائی جاتی ہے اس کے باوجود ہمارے بچے غذائی قلت سے مر رہے ہیں۔پاکستان کو رشوت ،ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی جیسے مافیا نے غربت کی لکیر سے بھی نیچے پہنچا دیا ہے۔ایک بڑی وجہ سودی نظام بھی ہے جس میں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔موسمیاتی تبدیلیاں بھی خوراک کی قلت کا باعث بن رہیں ہیں۔اور کووڈ 19 نے کمر ہی توڑ کر رکھ دی ہے۔
بھوک کیسے ختم ہو سکتی؟
عالمی سطح پر حکومتیں اس پر خصوصی توجہ دیں۔بے روزگاری کو ختم کیا جاۓ۔ہنر مند افراد پیدا کیے جائیں۔اور انفرادی سطح پر ہر مسلمان دوسرے مسلمان بھائی کی مدد کرے۔ہمسایہ اگر ہمسایے کا خیال رکھے تو کوئی شک نہیں کہ غربت کی نوبت ہی نہ آۓ۔اسلامی تاریخ میں خلفاء راتوں کو گشت کیا کرتے تھے تاکہ کوئی بھوکا نہ سوۓ اور کل قیامت کے دن ہم جواب دہ نہ ہوں۔
کھانا کھلانا جہاں بھوک مٹاتا وہاں باعث اجرو ثواب بھی ہے۔آج سے عہد کریں کہ اپنے اردگرد اور ہمسایے کی بھوک کا اور اپنے غریب رشتے دار کی بھوک کا خیال رکھیں گے اور اسے اپنے کھانے میں شریک سمجھیں گے۔